Importance of education in Islam

All praises and lauds are for Allah Who taught the man whatever he did not know, and the blessings of Allah are for His beloved Prophetﷺ Who has said Himself “the city of knowledge”, Who has said that attaining knowledge is mandatory for every Muslim, and for His followers till the day of Judgement.

There are a lot of Quranic verses and sayings of the Prophetﷺ telling about the “importance of education” as The Almighty Allah commands:

اِقْرَاۡ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیۡ خَلَقَ ۚ﴿۱﴾خَلَقَ الْاِنۡسٰنَ مِنْ عَلَقٍ ۚ﴿۲﴾اِقْرَاۡ وَ رَبُّکَ الْاَکْرَمُ ۙ﴿۳﴾الَّذِیۡ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ۙ﴿۴﴾عَلَّمَ الْاِنۡسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ ؕ﴿۵﴾][1][

(Read with the name of your Lord Who created, created the man from clot. Read, and your Lord only the most beneficent, the one Who taught to write with the pen. The one Who taught man all what he did not know)

In another verse, Allah says emphasizing upon the superiority of a learned person over the ignorant one:

قُلْ ہَلْ یَسْتَوِی الَّذِیۡنَ یَعْلَمُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ لَا یَعْلَمُوۡنَ][2][

(Proclaim, “Are the knowledgeable and the ignorant equal?”)

Above all, Allah has raised the positions and grads of knowledgeable one when He said:

اِنَّمَا یَخْشَی اللہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰٓؤُا][3][

(Among the bondmen of Allah, only the people of knowledge fear Him)

Here are some sayings of Prophetﷺ proclaiming the significance of attaining knowledge:

  • عن أنس بن مالك، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ” اطلبوا العلم ولو بالصين، فإن طلب العلم فريضة على كل مسلم ” ][4][

(Hazrat Anas son of Malik narrated that messenger of Allah (peace and blessing of Allah be upon Him) said: “attain knowledge whether it was in Chaina, because getting knowledge is mandatory upon every Muslim)

  • عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الكلمة الحكمة ضالة المؤمن، فحيث وجدها فهو أحق بها.][5][

Hazrat Abu Hurairh radi Allah ta’la narrated that the messenger of Allah (peace and blessing of Allah be upon Him) said: “science is the lost wealth of believer, he deserved it wherever it found)

The above verses of the Quran and the holy sayings of the Prophetﷺ and numerous besides them, enjoin a believer to get knowledge.

Now, a very serious question is aroused here, and the people have different opinions regarding it, the question is: what type of knowledge is emphasized upon in the holy verses of the Quran and in the holy Hadiths? Whether it is religious sciences or practical/worldly sciences or the both?

I would like to place here the gist of a lecture delivered by well known sufi scholar Ali jifri regarding the topic, according to him the division of knowledge towards religious and worldly, is now no more, both could be exchanged each other, because the  aim of knowledge is to be close to Allah, and getting insight regarding Him. If the religious sciences are taught or got to be enriched in this mortal world, no more, it would be religious whereas if the practical sciences are attained aiming religious factors, it would be religious.

After the knowledge of basics teaching of Islam, a Muslim is free to be well versed in any branch of knowledge with the condition that the intention of learner should be right and good, because the holy Prophetﷺ said:

(إنما الأعمال بالنيات وإنما لكل امرىء ما نوى فمن كانت هجرته إلى دنيا يصيبها أو إلى امرأة ينكحها فهجرته إلى ماهاجر إليه)][6][

(The reward of deeds depends upon the intentions and every person will get the reward according to what he has intended. So whoever emigrated for worldly benefits or for a woman to marry, his emigration was for what he emigrated for.)

 

And the Hijra (leaving the home for Allah and His Prophet ﷺ) was strongly recommended that time.

According to Imam Ghazali: “There should be a physician in every inhabitation of Muslim who met the needs of Muslims”

How could a man be a physician if he did not learn the physical sciences?

The fact is that Almighty Allah has crowned the Muslim with His caliphate in this world, therefore they have right to learn every beneficial science and knowledge, I repeat that “science is the lost wealth of believer, he deserved it wherever it found”

Come on! And throw a deep glance on Islamic history, you will find that all the sciences, upon which the West is asserting its monopoly, are rooted in great Muslim scholars writings.

 

[[1]] Quran Kareem, sura Alaq,

[[2]] Quran Kareem, sura zumar

[[3]] Quran Kareem, sura fatir 28

[[4]] Sh’bul iman, hadith no. 1543

[[5]] Sahihe Tirmizi, hadith No. 2687

[[6]] Sahihe Bukhari, Hadith No.01

Ghulam Sayed Ali
Advertisements

حج کے فضائل و مناقب پر دل پذیر تحریر *حج*

بقلم: لسان العصر علامہ قمرالزماں اعظمی
(سکریٹری جنرل ورلڈ اسلامک مشن یوکے)

قَالَ اللّٰہ تعالٰی۔ وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلًا وَمَنْ کَفَرَ فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ۔
[آل عمران:آیت۹۷]

ترجمہ: اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا کہ: اللہ کا لوگوں پر یہ حق بصورتِ فرض ہے کہ وہ بیت اللہ شریف کا حج کریں اگر وہ سفر کی استطاعت رکھتے ہوں اور جو اللہ رب العزت کے حکم سے رُوگردانی کرے گا تو اللہ تعالیٰ جملہ اہلِ عالَم سے بے نیاز ہے۔

*اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے:* سیّدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اُس کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، بیت اللہ شریف کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔
[بہ روایت امام احمد، امام بخاری ومسلم وترمذی]

*اگرمیں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال واجب ہوجاتا:* سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے درمیان خطبہ ارشاد فرمایا کہ: اے لوگو! بے شک اللہ تبارک وتعالیٰ نے تم پر حج فرض کر دیا ہے تو حج کرو۔ ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! کیا ہرسال؟ تو آپ خاموش رہے۔ اس شخص نے اسی طرح تین بار سوال کیا تو حضور نے ارشاد فرمایا کہ اگر میں ہاں کہہ دوں تو تم پر واجب ہوجائے گا اور تم اس کی استطاعت نہیں رکھتے۔ پھر ارشاد فرمایا کہ مجھے چھوڑے رکھو جب تک کہ میں تمہیں چھوڑے رکھوں [یعنی جب تک میں تمہیں خود سوال کا موقع فراہم نہ کروں] اس لیے کہ تم سے قبل کچھ لوگ اپنے سوالوں کی کثرت اور اپنے انبیائے کرام سے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوگئے۔ اس لیے جب تمہیں کسی کام کا حکم دوں تو اپنی استطاعت کے مطابق اس پر عمل کرو اور جب کسی بات سے روک دوں تو رُک جاؤ۔
[بہ روایت امام مسلم]

ایمان باللہ اور جہاد فی سبیل اللہ کے بعد حج مبرور سب سے افضل ہے: سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ کون سا عمل افضل ہے؟ تو حضور نے فرمایا: ایمان باللہ۔ پھر عرض کیا گیا اس کے بعد۔ تو پھر فرمایا: اللہ کے راستے میں جہاد۔ پھر عرض کیا گیا اس کے بعد۔ تو آپ نے فرمایا: حج مبرور۔[بخاری ومسلم]

مبرور وہ حج ہے جس میں حج کرنے والا ہر طرح کی نافرمانی کے ارتکاب سے محفوظ رہے۔

*نومولود کی طرح بے گناہ:* سیّدنا ابوہریرہ ہی ارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ: جس نے حج کیا اور بے ہودہ گوئی اور فسق و فجور سے محفوظ رہا وہ حج کے بعد گناہوں سے اس طرح پاک و صاف لوٹے گا جیسے اُس کی ماں نے آج ہی اُس کو جنا ہو۔[بخاری ومسلم]

*حج مبرور کی جزا صرف جنت ہے:* سیّدنا ابوہریرہ ہی بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:ایک عمرہ کے بعد دوسرا عمرہ درمیان کے تمام گناہوں کا کفارہ ہے اور حج مبرور کی جزا صرف جنت ہے ۔
[بخاری ومسلم]

*تمہارے لیے بہترین جہاد حج مبرور ہے:* امّ المومنین سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ: میں نے عرض کیا یار سول اللہ! ہمارے خیال میں جہاد سب سے افضل عمل ہے تو کیا ہم بھی جہاد نہ کریں؟ تو حضور نے ارشاد فرمایا تمہارے لیے بہترین جہاد حج مبرور ہے۔ [بخاری شریف]

*عرفہ جہنم سے آزادی کا دن:* امّ المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہی سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: عرفہ کے دن سے زیادہ کسی دن بھی اللہ اپنے بندوں کو جہنم سے آزاد نہیں فرماتا۔
[مسلم شریف]

*رمضان کا عمرہ رسول اللہ کے ساتھ حج کی طرح ہے:* سیّدنا ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ رمضان کا عمرہ حج کے برابر ہے، یا یہ میرے ساتھ حج کے برابر ہے، [راوی کو شک ہے] [بخاری ومسلم]

*بوڑھے باپ کی طرف سے حج بدل:* سیّدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ: ایک عورت نے بارگاہِ رسالت میں عرض کیا: اللہ کی طرف سے بندوں پر فریضۂ حج نے میرے والد کو اس حالت میں پایا ہے کہ وہ بہت بوڑھے ہیں، اور سواری پر بیٹھنے کی طاقت بھی نہیں رکھتے، کیا میں اُن کی جانب سے حج کرلوں؟ حضور نے ارشاد فرمایا: ہاں۔
[بخاری و مسلم]

*ضعیف باپ کی طرف سے حج اور عمرہ:* حضرت لقیط ابن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: میرے والد بہت بوڑھے ہیں اور حج اور عمرہ کی استطاعت رکھتے ہیں اور نہ ہی سفر کرسکتے ہیں۔ تو سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے والد کی طرف سے حج اور عمرہ کرو۔ [ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کی اور فرمایا کہ حدیث حسن صحیح ہے۔]

*رسول اللہ کے ساتھ حج کی سعادت:* حضرت سائب ابن یزید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرایا گیا جب کہ میں ابھی سات سال کا تھا۔ [بخاری شریف]

*بچے کا حج اور ماں کو ثواب:* حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ: حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے روحا کے مقام پر ایک قافلے سے ملاقات کی۔ آپ نے سوال فرمایا کون سے لوگ ہیں؟ اہلِ قافلہ نے جواب دیا ہم مسلمان ہیں۔ انہوں نے پوچھا آپ کون ہیں؟ حضور نے فرمایا میں اللہ کا رسول ہوں، تو ایک عورت نے اپنے بچے کو اُٹھایا اور پوچھا کیا اس کا حج بھی قبول ہوگا؟ حضور نے فرمایا ہاں اور اس کا اجر تمہیں ملے گا۔
[مسلم شریف]

*رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حج:* حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے روایت فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسی سواری پر حج فرمایا جس پر آپ کا سامان بھی لدا ہوا تھا ۔[یعنی سامان رکھنے کے لیے کوئی دوسری سواری نہ تھی۔]
[بخاری شریف]

*حج کے ساتھ رزقِ حلال کا حصول:* حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: عکاظ، مجنتہ اور دوالمجاز ایّامِ جاہلیت کے بازار تھے۔ صحابہ نے یہ خیال فرمایا کہ ایّام حج میں ان بازاروں میں تجارت گناہ ہے تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّکُمْ[البقرۃ:۱۹۸] فی مواسم الحج۔
[بخاری شریف]
تمہارے لیے کوئی حرج نہیں ہے کہ حج کے ایّام میں اللہ کا فضل [رزقِ حلال] حاصل کرو۔

[اخذ و ترجمہ از ریاض الصالحین للعلامہ نووی رحمۃ اللہ علیہ]
مشمولہ: مقالات خطیب اعظم، مرتب غلام مصطفی رضوی، مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی
ترسیل: نوری مشن مالیگاؤں
٭٭٭

क्या आपने गौर किया

क्या आपने गौर किया
क्या आप लोगों ने गौर किया कि पिछले 10-12 वर्षों में हिंदुस्तानी मुसलमानों की शिक्षा व्यवस्था में बड़ी तब्दीली आई है मदरसों से निकलने वाले लोग बड़ी तेजी से यूनिवर्सिटियों का रुख कर रहे हैं। मदरसों के पाठ्यक्रम में आधुनिक शिक्षा सम्मिलित की जाने लगी है।और यह तमाम बातें सबके लिए नॉर्मल हो गई हैं।

एक दशक पहले इन तमाम बातों को तसव्वुर करना काफी मुश्किल था मदरसा से आलिम करने के बाद उच्च शिक्षा के लिए विश्वविद्यालय जाना कितना मुश्किल था यह तो वही जानता है जो इस मुश्किल से दो चार हुआ होगा । मैं अपने साथ हुए 1 वाकिये का जिक्र करता हूं।

अगस्त 2008 यानि ठीक 10 साल पहले मेरा सिलेक्शन अलीगढ़ मुस्लिम विश्वविद्यालय में बीए के लिए हो गया था अपने टीचरों से मिल रहा था और दुआ की दरखास्त कर रहा था। एक उस्ताद से मिला तो उन्होंने ऐसा सवाल किया जिसका जवाब उनको मालूम था। “कहां जा रहे हो ?” “अलीगढ़” मैंने जवाब दिया। “अच्छा वेल अप टू डेट बनने” उन्होंने तंज़ किया। मैं बिल्कुल सरपटा गया और समझ में नहीं आया कि मुझे क्या कहना चाहिए। कुछ जवाब ना बन पड़ा तो मुंह लटका लिया । फिर उन्होंने आप ही कहना शुरू किया “हम तो दीन वाले लोग हैं हम आपके लिए क्या दुआ कर सकते हैं?” ऐसा मालूम हो रहा था जैसे मैंने अलीगढ़ में एडमिशन ले कर कुफ्र का इर्तिकाब कर दिया हो। फिर किसी तरह से वहां से आया और दूसरे टीचरों से मुलाकात की और अलीगढ़ चला गया लेकिन जब तक वहां रहा यही सोचता रहा कि कहीं मैंने गलत तो नहीं किया।

अब जाकर मालूम हुआ है कि मैं गलत नहीं था। क्योंकि अगर मदरसे की तालीम के बाद मैं किसी मदरसे से जुड़ गया होता तो  वह तमाम काम नहीं कर पाता जो आज कर सकता हूं। और रही बात दीनदार और बेदीन की। तो अच्छे बुरे लोग हर जगह रहते हैं चाहे मदरसा हो या खानकाह हो, कॉलेज हो या यूनिवर्सिटी।

کوبرا پوسٹ کا خلاصہ:ملک کی جمہوریت و سا لمیت کے لئے خطرے کے علاوہ قوم مسلم کے لئے لمحہ ٔفکریہ

از غلام سید علی علیمی

یہ مانا گیا ہے کہ جمہوریت کے چار کھمبے ہوتے ہیں (١) حکومت (٢)مجالس مقننہ [ پارلیمٹ ،صوبائی اسمبلیاں] (٣) عدالت اور (٤) میڈیا، جب تک یہ چاروں اپنا اپنا کام اپنے اپنے حدود و قیود میں رہ کر تے ہیں جمہوریت پنپتی ہے پھلتی پھولتی ہے، اور جب یہ چاروں اپنے اپنے حدود پھلانگتے ہیں یا اپنی ذمہ داریوں سے منہ پھیرنے لگتے ہیں تو ملک جمہوریت سے تاناشاہی کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔
مانا یہ جاتا ہے کہ حاکم کی من مانی پر پارلیمنٹ لگام لگاتی ہے، اور حکومت اور پارلیمنٹ کی ملی بھگت پر عدالت اور ان سب پر میڈیا کا خوف ہوتا ہے، میڈیا عوام کی آواز بلند کرتا ہے ، ان کے مسائل اقتدار میں بیٹھے لوگوں تک پہنچاتا ہے،ایک جمہوری ملک میں میڈیا کی اخلاقی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ جمہوری اصولوں کو مضبوط کرے۔
ہندوستان نے انگریزوں کی غلامی سے آزادی کے بعد خود کو سیکولر جمہوریہ قرار دیا، بھارتی سیکولرزم کا مطلب ملک تمام مذاہب کے ساتھ یکساں سلوک کرے گا، سب کو قبول کرے گا۔

اس وقت بھارت میں سیکولرجمہوریت کی بنیادیں کمزور ہوتی جارہی ہیں،صاف ہوتا جا رہا ہے کہ ہندوستان کو اپنا مذہب مل چکا ہے، تمام سیاسی پارٹیاں صرف اکثریتی طبقے کے دھرم کی سیاست کر رہی ہیں، اور یہ ان کی مجبوری بھی ہے کیوں کہ جمہوریت کا سب سے بڑا عیب یہی ہے کہ اس میں سر گنِے جاتے ہیں ، یہ نہیں دیکھا جاتا کہ اس سرمیں دانش وبینش ہے یا حماقت وسفاہت، ڈاکٹر اقبال نے بہت پہلے کہا تھا:

اس راز کو اک مردِ فرنگی نے کیا فاش

ہر چندکہ دانا اسے کھولا نہیں کرتے
جمہوریت اک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں

بندوں کو گِنا کرتے ہیں ، تولا نہیں کرتے!

اقبال کے مردِ فرنگی کی بات پورے طور پر درست ہے، آج سیکولر بھارت پر شدت پسند ہندو نواز سیاسی جماعت کا قبضہ ہے، حکومت تو چلا نہیں پا رہی ہے،اس کے ہر فیصلے میں عوام کو بے انتہا پریشانیوں سے دوچار ہوناپڑا،نوٹ بندی، جی، ایس ،ٹی، ہو یا ہر چیز کے ساتھ آدھار کو لازم کرنے کا فیصلہ ہو، جانوروں کی خرید و فروخت کا معاملہ ہو، یا کچھ صوبوں میں بیف پر پابندی کا فیصلہ ہو، سب میں اس حکومت کی نااہلی سامنے آئی اور عام شہریوں کو مصیبت سے دوچار ہونا پڑا، لیکن پھر بھی عام ہندو خوش وخرم بلکہ اکثر تو مطمئن بھی نظر آتے ہیں،کیوں کہ ان کے حساب سے یہ ہندووں کی حکومت ہے۔

ہیومن رائٹس واچ جو بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کی نگرانی کرنے والی ایک تنظیم ہے ، ٢٠١٧ء میں دنیا بھر میں ہوئے انسانی حقوق کی پامالی پر اس نے رپورٹ پیش کی ہے ، جس کے صفحہ ٢٦١ پر ہندوستان کی رپورٹ میں لکھا ہے:

”٢٠١٧ء کے ہندوستان میں مذہبی اقلیت، دلت اور حکومت کی تنقید کرنے والوں پر فرقہ وارانہ تشددکا اندیشہ بڑھا ہے، اور اس کو سرانجام دینے والے گروہوں میں سے اکثر برسرِ اقتدار سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کا حمایتی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، حکومت ان حملوں کی فوری یا قابل اعتبار جانچ کرانے میں ناکام رہی، وہیں بی ،جے ، پی کے بہت سے سینئر لیڈر کھلم کھلا ہندو برتری اور جنونی وطن پرستی کو بڑھاوا دیتے رہے جس کی وجہ تشدد و کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا، اختلاف رائے کرنے والے کو غدار وطن ( دیش دروہی)قرار دیا گیا، سماجی کارکنوں، صحافیوں اور دانش وروں کو ان کے نظریے اوربے خوف اظہار خیال کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا، حکومت کی کارکردگی اور پالیسیوں پر تنقید کرنے والی غیر سرکار تنظیموں (N.G.Os) کو فارین فنڈنگ ریگولیشن کے ذریعہ ٹارگیٹ کیا گیا۔”(انگریزی سے ترجمہ)

میڈیا جس سے لوگوں کی بڑی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں کہ وہ غیرجانبداری کا ثبوت دے گی ، اس وقت اس کا حال بھی بہت بر ا ہے ، ٢٦/مارچ ٢٠١٨ء سے پہلے بھی کہا جاتا تھا بلکہ لوگوں کو یقین تھا کہ بھارت کے مواصلاتی ادارے بِک چکے ہیں، لیکن اس کا ثبوت نہیں تھا ،Cobrapost.comنامی نیوز پورٹل نے اس پرباضابطہ ثبوت پیش کر دیا ہے کہ ہندوستانی میڈیا میں زیادہ تر پیسوں کے بدلے ذلیل سے ذلیل حرکت کرنے کے لئے ہمہ وقت کمر بستہ رہتی ہیں۔

Coprapost.comنے ٢٦/مارچ ٢٠١٨ء تقریباً تین درجن میڈیا اداروں پر اپنی تحقیقات کی رپورٹ شائع کی ، جسے ”آپریشن ١٣٦”کا عنوان دیا، سینئر صحافی پشپ شرما نے تحقیقات کو سرانجام دیا، تحقیقات کے نتائج بڑے چونکادینے والے ہیں، پوری رپورٹ انگریزی اور ہندی میں کوبراپوسٹ کی ویب سائٹ پر موجود ہے،اردو قارئین کے لئے رپورٹ کا خلاصہ پیش کر رہا ہوں۔

”اس جانچ میں پایا گیا ہے کہ کس طرح بھارتی میڈیا اپنی ذمہ داری سے منہ موڑکر پریس کی آزادی کا غلط استعمال کر رہی ہے اور نازیبا مواد نشر کرکے صحافت کے پیشے پر سوالیہ نشان لگا رہی ہے، صحافی پشپ شرما نے شری مد بھگوت گیتا پرچار سمیتی ،اجین کے مبلغ بن کر اور اپنا نام آچاریہ چھترپال اٹل بتا کر ملک کے باعزت اور قابل اعتماد مانے جانے والے قریب ٣/ درجن میڈیا اداروں کے اعلیٰ اور ذمہ دار عہدہ داروں سے ملاقات کی، پشپ نے انھیں ایک خاص طرح کی صحافتی تحریک کے لئے چھ سے پچاس کروڑ تک کا بجٹ بتایا، شرمانے انھیں جو ایجنڈا بتایا تھا اس میں یہ شرطیں شامل تھیں:
١۔ صحافتی تحریک کے شروعاتی اور پہلے مرحلے میں ہندوتوا کی تبلیغ کی جائے گی، جس کے تحت موافق ماحول تیار کر مذہبی پروگراموں کے ذریعہ ہندوتوا کو بڑھاوا دیا جائے گا۔

٢۔ اس کے بعد وینیہ کٹیار، وما بھارتی، موہن بھاگوت اور دوسرے ہندووادی نیتاؤں کی تقریروں کو بڑھاوا دے کر فرقہ پرستی کی راہ پر ووٹروں کو اکٹھا کرنے کے لئے تحریک تیار کی جائے گی۔

٣۔ جیسے ہی عام انتخابات نزدیک آجائیں گے یہ تحریک ہمارے سیاسی حریفوں کو ٹارگیٹ کرے گی، راہل گاندھی، مایاوتی او ر اکھیلیش یادو جیسے اپوزیٹ پارٹیوں کے بڑے نیتاؤں کو ‘پپّو’ ‘بوا’ اور ‘ببوا’ کہہ کر عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا، تاکہ انتخابات کے دوران عوام انھیں اہمیت نہ دے اور اس سے ہم ووٹروں کا رخ اپنی طرف کرنے میں کامیاب ہو سکیں۔

٤۔میڈیا اداروں کو اس تحریک کو ان کے ساتھ موجود تمام پلیٹ فارموں پر جیسے پرنٹ ،الیکٹرانک، ریڈیو، ڈیجیٹل، ای۔نیوز پورٹل، ویب سائٹ کے ساتھ سوشل میڈیا جیسے فیس بک اور ٹویٹر پر بھی چلانا ہوگا۔

اس ایجنڈے کو لے کر پشپ شرما نے جن میڈیا اداروں سے بات کی حیرت کی بات یہ ہے کہ تقریباً سبھی میڈیا اداروں نے اس تحریک کو چلانے میں اپنی دل چسپی دکھائی، بات چیت کا اہم حصہ مندرجہ ذیل نکات میں ذکر کیے جا رہے ہیں:
١۔ میڈیا ہندوتوا کو عقیدہ اور مذہبی وعظ کے طور بڑھاوا دینے کے لئے متفق ہوئی۔
٢۔ میڈیا فرقہ پرست مواد کے ساتھ ووٹروں کا پولرازیشن کرنے کے لئے ایک خاص اشتہار شائع اور نشر کرنے پر متفق ہوئی۔
٣۔ اپنے میڈیا پلیٹ فارموں کے ذریعے یہ برسرِ اقتدار سیاسی پارٹی کے لئے اس کے سیاسی حریفوں کی کردار کشی کرنے کے لئے متفق ہوئی۔

٤۔ ان میں سے کئی نے اس ڈیل کے بدلے نقد ادائیگی یعنی کالا دھن قبول کرنے کے لئے اتفاق ظاہر کیا۔

٥۔ ان میں سے کچھ اداروں کے مالکوں یا ملازموں نے صحافی کو بتایا کہ وہ خود سنگھ سے جڑے رہے ہیں اور ہندووادی نظریہ سے متاثر ہیں لہذا انھیں اس تحریک پر کام کرنے میں خوشی ہوگی۔

٦۔ان میں سے کچھ اپنی نشریات میں برسرِ اقتدار پارٹی کے حق میں کہانیا ں اور خبریں لگانے کے لئے متفق ہوئے۔

٧۔ ان میں سے کئی پشپ شرما کے ذریعے بتائے گئے نام نہاد مقاصدکو خاص طور سے پورا کرنے کے لئے اشتہار بنانے اور اسے چلانے پر متفق ہوئے۔

٨۔ تقربیاً سبھی اس تحریک کو ان کے ساتھ موجود تمام پلیٹ فارموں جیسے پرنٹ، الیکٹرانک،ڈیجیٹل، ای۔نیوز پورٹل، ویب سائٹ، اور سوشل میڈیا جیسے فیس بک اور ٹویٹر پر چلانے کے لئے متفق ہوئے۔

٩۔ ان میں سے کچھ نے اپنے ادارے کے علاوہ دوسرے صحافیوں کی مدد سے دوسرے اداروں میں برسرِ اقتدار پارٹی کا تعاون کرنے والی اسٹوری چلوانے کے لئے بھی دل چسپی ظاہر کی۔

١٠۔ ان میں سے کچھ تو مرکزی وزیر ارن جیٹلی، منوج سنہا،جسونت سنہا،مینکاگاندھی اور ان کے بیٹے ورون گاندھی کے خلاف خبریں چلانے کے لئے بھی تیار ہوئے۔

١١۔ ان میں کچھ ادارے این ۔ڈی۔اے حکومت میں بی۔جے۔پی کی معاون پارٹیوں کے بڑے لیڈروں جیسے انوپریا پٹیل، اوم پرکاش راج بھر اور اوپیندر کُشواہا کے خلاف بھی خبریں چلانے کے لئے تیار ہوئے۔

١٢۔ کچھ میڈیا ادارے پرشانت بھوشن، دُشینت دوے،کامنی جے سوال اوراندرا جے سنگھ جیسے قانونی جانکار اور سماج میں مانے جانے چہروں کو بدنام کرنے کے لئے بھی تیار دکھے۔
١٣۔ کچھ اداروں نے تحریک چلانے والے کسانوں کو ماؤوادیوں کے طور پر پیش کرنے کے لئے بھی اتفاق ظاہر کیا۔

١٤۔ ان میں سے کئی نے راہل گاندھی جیسے نیتاؤں کی ”کردار کشی” کے ایک خاص مواد تیار کرنے اور اسے بڑھاوا دینے کے لئے اپنااتفاق ظاہر کیا۔
انگریزی اور ہندی میں شائع لمبی رپورٹ کے کچھ حصے کا ترجمہ میں نے پیش کیا ہے، لیکن اتنا ہی اس بات کا اندازہ لگانے کے لئے کافی ہے کہ ہندوستانی میڈیا کتنی ذلیل ہو چکی ہے، وہ پیسوں کے لئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہو جاتی ہے، اس کو کچھ فرق نہیں پڑتا کہ اس کی ایک غلط رپورٹ سے پوری کی پوری آبادی خاک کے ڈھیر میں تبدیل ہو جاسکتی ہے، اب ان میڈیا اداروں کا نام دیکھ لیں جنھوں قانون اور اخلاقی قدروں کو بالائے طاق رکھ کر سودے بازی کی ہے، کوبرا پوسٹ نے بتایا ہے کہ:

”آپریشن ١٣٦ کے پہلے حصہ میں ہم نے انڈیا ٹی وی(India TV)،ساب نیٹ ورک (SAB Network)، ڈی۔این۔ اے ، امر اُجالا، یو۔این۔ آئی، نائن ۔اَکس ٹشن (9X Tashan)،سماچار پَلَس، ایچ۔این۔این لائیو 24×7، پنجاب کیسری، سوتنتربھارت، اسکوپ ہوپ (Scoop Whoop)، انڈیا واچ، ریڈف ڈاٹ کام (Rediff.com)، آج ہندی ڈیلی، سادھنا پرائم نیوز، اور دینک جاگرن(Dainik jagran)سے جڑے لوگوں کی بات چیت کے خاص حصوں کو دکھائے ہیں۔”TV)،ساب نیٹ ورک (SAB Network)، ڈی۔این۔ اے ، امر اُجالا، یو۔این۔ آئی، نائن ۔اَکس ٹشن (9X Tashan)،سماچار پَلَس، ایچ۔این۔این لائیو 24×7، پنجاب کیسری، سوتنتربھارت، اسکوپ ہوپ (Scoop Whoop)، انڈیا واچ، ریڈف ڈاٹ کام (Rediff.com)، آج ہندی ڈیلی، سادھنا پرائم نیوز، اور دینک جاگرن(Dainik jagran)سے جڑے لوگوں کی بات چیت کے خاص حصوں کو دکھائے ہیں۔”

آپ ان نیوز چینلوں اور اخباروں کے نام دوبارہ پڑھ لیں ، اس میں انڈیا ٹی وی ہے جو ہندوستا ن میں سب سے زیادہ دیکھے جانے والے نیوز چینلوں میں سے ایک ہے، اس میں دینک جاگرن ہے جو ہندوستان میں سب سے زیادہ پڑھا جانے والا اخبار ہے، اس میں سب کے سب نامی گرامی ہیں، اور سب کے سب بِکنے کے لئے تیار ۔

رپورٹ میں یہ دکھایا گیا ہے کہ سب صرف پیسوں کے لئے بکنے کے لئے تیار تھے، لیکن یہ آدھی سچائی ہے، وہ بِکنے کے لئے تیار تھے اس لئے کہ جو کرنے کے لئے انھیں پیسے کی پیش کش کی گئی تھی، ایساکام کرنے کے لئے یہ میڈیا ہاؤسیز بے تاب بھی رہتے ہیں کیوں کہ ان کی ذہن سازی بی ۔جے ۔پی اور آر۔ایس۔ ایس کی طرف کر دی گئی ہے، جس طرح داعش اور دوسرے دہشت گرد گروہ انسانی بم بنانے سے پہلے اسے جنت کی حوروں کا خواب دکھا دیتے ہیں، اسی طرح ہندو دہشت گرد تنظیم آر۔ایس۔ ایس اور اس کی ہم نوا تنظیمیں‘ دھرم یودھ’ اور‘موکچھ ’ کا دھتورا اپنے لوگوں دماغ میں بھر رہی ہیں، اور یہ میڈیا ادارے اسی دھتورے کے نشے میں مست ہیں، ورنہ میں دعوے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اگر پشپ شرما مسلمان بن کر تحقیقات کرتے اور کہتے کہ مسلمانوں کی شبیہ جو میڈیا کے ذریعہ خراب کی جاتی رہی ہے، اس کو بحال کرنے کا ایجنڈا چلاؤ، اور کسی مسلم لیڈر مثلاً اسدالدین اویسی کو معمار وطن کے طور پر پیش کرو، اس کے بدلے ہم سو کروڑ دینے کو تیار ہیں ،تب بھی یہ لوگ ہرگز تیار نہ ہوتے ۔
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہندوستان میں پورب ،پچھم ،اتر،دکھن ہرطرف کی ہوائیں مسلمانوں کے خلاف چل رہی ہیں، یہی لوگ مسلمانوں سے اپنا تشخص ترک کرنے کوکہہ رہے ہیں، وہیں ہندؤں سے کٹر مذہبی ہو جانے پر دباؤ بھی ڈال رہے ہیں ،حد تو یہ ہے کہ جو لوگ اپنا شمار ہندو میں نہیں کرانا چاہتے ان کو بھی ہندو منوانے پر تلے ہیں۔
مجھے نہیں معلوم کہ مسلم علما اور دانش وروں سے مجھے کیا اپیل کرنی چاہیے، یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ بین المسالک اختلافات ہوتے ہوئے بھی سیاسی اتحاد کی کوشش کریں، کیوں کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ بین المشارب اختلافات ہی نہیں تھم رہے ہیں، یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ عوام میں بیداری لائی جائے کیوں کہ عوام اپنے علما ہی سے بیزار ہوتی جا رہی ہے، یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ روحانی انقلاب برپا کرکے خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ اور دوسرے حضرات صوفیا کی طرح ہزاروں کفارومشرکین کو حلقہ بگوش اسلام کیا جائے ، کیوں کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ تقریباً اسیّ فی صد مسلم آبادی صرف نام کی مسلم ہے،حالانکہ سب کسی نہ کسی روحانی سلسلے میں مرید ہیں۔۔۔تو مجھے کیا کہنا چاہیے؟؟کیا یہی کہنا چاہیے کہ یہ سب قرب قیامت کی نشانی ہے، جلد ہی دجالی فتنہ آنے والا ہے، پھر حضرت عیسیٰ تشریف لائیں گے ، دجال کو جہنم رسید کریں گے، پھر اسلامی حکومت قائم ہوگی، اسلام کا بول بالا ہوگا۔۔۔!!!یہی کہنا چاہیے نا! شاید یہی کہنا چاہیے!

नरमी हर हाल में बेहतर है

कुछ लोगो का मानना है कि प्राइवेट इदारों के ज़िम्मेदारों का सख्त रहना बहुत ज़रूरी है । बगैर सख्ती के कोई इदारा तरक़्क़ी नही कर सकता लेकिन ये बात सही नही है इसलिए कि तजर्बा ये कहता कि सख्ती से कहीं ज़्यादा नरमी कारगर है ।

लेकिन उसके साथ इंसान को कुछ उसूलों पर सख्त होना चाहिए।

शेख सअदी ने कहा है

नरमी और सख्ती दोनों साथ साथ ठीक हैं